حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۂ ناظمیہ ہندوستان میں، مدرسہ ہذا کے سربراہ آیت الله سید حمید الحسن تقوی کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا؛ جس میں مدرسے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، فیصلوں میں سوشل میڈیا پر مدرسے کے نام سے اظہارِ خیال کرنے کے لیے اجازت حاصل کرنا ضروری قرار دیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ مدرسے کے علماء، واعظین، فارغین اور طلبہ اپنے خیالات اور مطالب بیان کرنے اور منتقل کرنے کے مجاز اور بااختیار ہیں، لیکن ان کی ہر رائے اور ہر بات مدرسے سے متعلق نہیں سمجھی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ مدرسے سے متعلق کسی بھی انتظامی اور مالی معاملے کے بارے میں شکایت کی صورت میں متعلقہ افراد اور ذمہ داران سے رابطہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے قدیم مدارس، جن میں ناظمیہ، سلطان المدارس، جوادیہ، منصبہ، وثیقیہ اور دیگر قدیم مدارس شامل ہیں، کا دیگر مدارس سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان قدیم مدارس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، جن میں ناظمیہ قدیم ترین مدرسہ ہے۔
جامعہ کے سربراہ آیت الله سید حمید الحسن تقوی نے اجلاس میں کہا کہ حوزہ علمیہ جامعۂ ناظمیہ ہمیشہ عراق اور ایران کے بزرگ علماء کی سرپرستی اور حمایت میں علماء، مدرسین اور دانشوروں کی تربیت اور پرورش کرتا رہا ہے، جن میں آیت اللہ شیخ ضیاء الدین عراقی، آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی، آیت اللہ سید کاظم طباطبائی یزدی، آیت اللہ سید حسین بروجردی اور آیت اللہ سید محسن حکیم شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ نے ہر اس تحریک کی مخالفت کی ہے جو مراجع کے مخالف ہو اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر اور افراد سے لاتعلقی اور برائت کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ آیت الله سید حمید الحسن طویل عرصے تک بیماری میں مبتلا رہنے اور بڑے عرصے کے وقفے کے بعد اساتذہ اور طلبہ کی درخواست پر جامعۂ ناظمیہ تشریف لائے، جہاں اساتذہ اور طلبہ نے ان کا استقبال کیا۔










آپ کا تبصرہ